قرآن مجید صرف احکام کی کتاب نہیں ہے؛ یہ ان انبیاء کے دلکش قصوں سے مالا مال ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے۔ یہ کہانیاں محض تاریخی بیانات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایمان، لچک، قیادت، اور انسانی جدوجہد کے خدائی مطالعے (Divine Case Studies) ہیں۔ ہر قصہ حکمت کا ایک خزانہ ہے، جو گہرے اسباق پیش کرتا ہے جو ہمارے جدید دور کے چیلنجز سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ ان برگزیدہ رسولوں کی زندگیوں پر غور کر کے، ہم اپنی پیچیدہ دنیا میں رہنمائی حاصل کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے الہام پا سکتے ہیں۔
حضرت آدم (علیہ السلام) – توبہ اور امید کا سبق:
ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کا قصہ انسانی کمزوری (fallibility) اور خدائی رحمت کا ایک طاقتور سبق ہے۔ جنت میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کے فریب میں آنے کے بعد، آدم اور حوا نے فوراً پشیمانی محسوس کی اور سچے دل سے توبہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کیا، اور کہا:
"اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر آپ نے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ کیا تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔”
لازوال حکمت: حضرت آدم کا قصہ ہمیں سکھاتا ہے کہ غلطیاں کرنا انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ جو چیز ہمیں متعین کرتی ہے، وہ ہمارا گرنا نہیں، بلکہ ہمارا اٹھنا ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سچی توبہ کے ذریعے اللہ کی طرف واپسی کا راستہ ہمیشہ کھلا ہے اور اللہ کی بے پایاں مغفرت کے لیے کوئی بھی غلطی بہت بڑی نہیں ہے۔ یہ ہمیں مایوسی کے بجائے امید دیتا ہے اور ہمیں معافی مانگنے کی ترغیب دیتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) – ہر مشکل کے باوجود ثابت قدمی کا سبق:
حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو 950 سال تک توحید کا پیغام دیا۔ انہیں بت پرستی میں غرق ایک معاشرے کی طرف سے مسلسل مذاق، انکار، اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ صدیوں کی کوشش کے بعد صرف چند پیروکار ہونے کے باوجود، آپ کا عزم کبھی متزلزل نہیں ہوا۔ آپ اپنے اصولوں پر قائم رہے، اللہ کے حکم اور حکمت پر مکمل بھروسہ کیا۔
لازوال حکمت: حضرت نوح کی غیر متزلزل ثابت قدمی ہر اس شخص کے لیے ایک گہرا سبق ہے جو کسی نیک مقصد کے لیے کام کر رہا ہے، خواہ وہ سماجی اصلاح ہو، کمیونٹی ورک ہو، یا ذاتی ترقی ہو۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کامیابی کو ہمیشہ فوری نتائج سے نہیں ناپا جاتا۔ حقیقی فتح استقامت، صبر، اور اپنے اصولوں سے وابستگی میں ہے، یہاں تک کہ شدید مخالفت کے سامنے بھی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) – غیب پر غیر متزلزل ایمان کا سبق:
"خلیل اللہ” (اللہ کے دوست) کے نام سے جانے جانے والے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی ایمان کے عظیم امتحانات کا ایک سلسلہ تھی۔ انہوں نے ایک ظالم بادشاہ کا مقابلہ کیا، انہیں آگ میں پھینکا گیا جہاں اللہ نے انہیں بچایا، اور انہیں اپنی بیوی اور شیر خوار بیٹے کو ایک بنجر صحرا میں چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ ان کا سب سے بڑا امتحان اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل کی قربانی کا خدائی حکم تھا۔ ہر صورت میں، آپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اللہ کی مرضی کے سامنے سر جھکا دیا۔
لازوال حکمت: حضرت ابراہیم کا قصہ ہمیں سچے اطاعت (اسلام) اور توکل (بھروسہ) کے معنی سکھاتا ہے۔ یہ ہمیں چیلنج کرتا ہے کہ ہم اللہ کے منصوبے پر یقین رکھیں، خاص طور پر جب وہ غیر منطقی یا ناممکن حد تک مشکل لگے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ سب سے بڑی روحانی ترقی اکثر ہمارے سب سے بڑے امتحانات سے ہوتی ہے اور غیر متزلزل ایمان کا بدلہ ہمیشہ دیا جاتا ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) – تحمل اور بُرائی کا جواب اچھائی سے دینے کا سبق:
حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ دھوکہ دہی، ناانصافی، اور آزمائش کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ اپنے ہی بھائیوں کے ہاتھوں دھوکہ کھا کر مرنے کے لیے چھوڑ دیے گئے، غلامی میں بیچے گئے، اور برسوں تک ناحق قید میں رہے۔ اس کے باوجود یوسف علیہ السلام کبھی تلخ یا انتقامی نہیں بنے۔ جب وہ بالآخر ایک بڑی طاقت کے عہدے پر فائز ہوئے اور ان کے بھائی ضرورت کے وقت ان کے پاس آئے، تو انہوں نے کمال درجے کی نفاست اور اخلاقی کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر معاف کر دیا۔
لازوال حکمت: حضرت یوسف کی زندگی جذباتی اور روحانی لچک کی ایک بہترین مثال ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب ہمارے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی جائے تب بھی اپنی دیانت اور نیکی کو کیسے برقرار رکھا جائے۔ ان کا آخری معافی کا عمل ظاہر کرتا ہے کہ برائی کا جواب نیکی (احسان) سے دینا اخلاقی فضیلت کا اعلیٰ ترین درجہ ہے اور حقیقی شفا اور صلح کا راستہ ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) – طاقت کے سامنے حق بات کہنے کا سبق:
حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سب سے مشکل مشن سونپا گیا تھا: اپنے وقت کے سب سے طاقتور اور ظالم حکمران فرعون کا مقابلہ کرنا، اور غلام بنائے گئے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرنا۔ اپنی ابتدائی خوف اور کمزوری کے احساس کے باوجود، موسیٰ علیہ السلام، اللہ کی حمایت سے، فرعون کے سامنے بہادری سے کھڑے ہوئے، اس کے ظلم کو چیلنج کیا اور اسے ایک سچے خدا کی عبادت کی طرف بلایا۔
لازوال حکمت: حضرت موسیٰ کا قصہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کے لیے ایک طاقتور تحریک ہے۔ یہ سکھاتا ہے کہ ایک فرد، جو ایمان اور اخلاقی جرات سے لیس ہو، طاقت کے انتہائی گہرے جڑوں والے نظام کو بھی چیلنج کر سکتا ہے۔ یہ مظلوموں کی وکالت کرنے اور حق بات کہنے کا ایک لازوال مطالبہ ہے، یہاں تک کہ جب یہ مشکل اور خطرناک ہو۔
نتیجہ:
قرآنی انبیاء کے قصے محض کہانیاں سمجھ کر پڑھنے کے لیے نہیں ہیں۔ یہ ہماری اپنی جدوجہد اور صلاحیت کو ظاہر کرنے والے گہرے روحانی آئینے ہیں۔ حضرت آدم کی امید، حضرت نوح کی ثابت قدمی، حضرت ابراہیم کا ایمان، حضرت یوسف کا تحمل، اور حضرت موسیٰ کی شجاعت یہ سب حکمت کا ایک بھرپور ذریعہ فراہم کرتے ہیں، جو ہر اس نسل کے لیے لازوال رہنمائی پیش کرتے ہیں جو مقصد اور دیانت کی زندگی گزارنا چاہتی ہے۔